Pakistan Institute of Development Economics

Agreement between Pakistan and IMF: Has the policy of ‘Let’s go IMF’ by each government been beneficial or harmful for Pakistan?
Publication Year : 2022
Author: Abbas Moosvi

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ: ہر حکومت کی جانب سے ’چلو چلو آئی ایم ایف چلو‘ کی پالیسی پاکستان کے لیے مفید رہی یا نقصان دہ؟

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان قرض پروگرام کی بحالی کا سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد آئی ایم ایف پاکستان کو ایک ارب 17 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔

پاکستان کی موجودہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے سنہ 2019 میں طے پانے والے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے اقتدار میں آنے کے بعد سے کوشاں تھی۔

اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف شرائط کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ، بجلی کے نرخ بڑھانے، اضافی ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے اور انڈسٹری پر ٹیکس کی شرح بڑھانے اور کچھ دوسری شرائط پر عمل کیا گیا تھا۔

آئی ایم ایف کی جانب سے اس موجودہ پروگرام کے تحت چھ ارب ڈالر میں سے تین ارب ڈالر پاکستان کو مل چکے ہیں جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اب قرض کی مد میں فراہم کی جانے والی رقم تقریباً چار اعشاریہ دو ارب ڈالر ہو جائے گی جبکہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد کل رقم کو چھ ارب ڈالر سے بڑھا کر سات ارب ڈالر کیا جا سکتا ہے۔

وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے لیے کاوشوں پر وزیراعظم، ساتھی وزرا، سیکریٹریز اور فنانس ڈویژن کا شکریہ ادا کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کو طلب و رسد پر مبنی ایکسچینج ریٹ کا تسلسل برقرار رکھنا ہو گا، اس کے ساتھ مستعد مانیٹری پالیسی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ہو گی۔‘

آئی ایم ایف اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’عالمی مہنگائی کے باعث بڑھتی قیمتوں اور اہم فیصلوں میں تاخیر سے پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر کم ہوئے، زائد طلب کے سبب معیشت اتنی تیز تر ہوئی کہ بیرونی ادائیگیوں میں بڑا خسارہ ہوا۔‘

پاکستان کی آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں میں شمولیت کے بارے میں ملک کے ماہرین معیشت اور ان پروگراموں کے دوران حکومتوں میں رہنے والے افراد نے پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف پروگراموں کے اثرات کے متعلق مختلف رد عمل دیا ہے۔

کچھ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کے مالی نظم و ضبط کے لیے تھے تو دوسروں نے ان پروگراموں سے ملک پر قرض کے بوجھ میں اضافے اور غربت میں اضافے کے بارے میں نشاندہی کی ہے۔

پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں کی تاریخ کیا ہے؟

پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں میں شمولیت کے بارے عالمی ادارے کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ ابھی تک 22 پروگرام ہوئے اور پہلا پروگرام دسمبر 1958 میں طے پایا جس کے تحت پاکستان کو ڈھائی کروڑ ڈالر دینے کا معاہدہ طے پایا۔

اس کے بعد آئی ایم ایف پروگراموں کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا اور آخری اور موجودہ پروگرام کے معاہدے پر جولائی 2019 میں دستخط ہوئے جس کے تحت پاکستان کو چھ ارب ڈالر ملنے تھے جس میں سے تین ارب ڈالر مل چکے ہیں اور باقی تین ارب ڈالر کے لیے موجودہ حکومت کے عالمی ادارے سے مذاکرات جاری ہیں۔

آئی ایم ایف پروگرام کی تاریخ کے مطابق فوجی صدر ایوب خان کے دور میں پاکستان کے آئی ایم ایف سے تین پروگرام ہوئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں بننے والی پہلی حکومت کے دور میں پاکستان کے آئی ایم ایف سے چار پروگرام ہوئے۔

فوجی صدر جنرل ضیاالحق کے دور میں پاکستان نے آئی ایم ایف کے دو پروگراموں میں شرکت کی۔

پی پی پی کی دوسری حکومت میں بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں پاکستان آئی ایم ایف کے دو پروگراموں میں شامل ہوا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پہلی حکومت میں ایک آئی ایم ایف پروگرام میں پاکستان نے شمولیت اختیار کی۔

بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں پاکستان آئی ایم ایف کے تین پروگراموں میں شامل ہوا تو نواز شریف کی دوسری وزارت عظمیٰ میں پاکستان نے دو آئی ایم ایف پروگراموں میں شمولیت اختیار کی۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں دو آئی ایم ایف پروگرام ہوئے، پی پی پی کی 2008 سے 2013 میں بننے والی حکومت میں ایک پروگرام، پاکستان مسلم لیگ نواز کی 2013 سے 2018 میں حکومت میں ایک پروگرام اور پاکستان تحریک انصف کے دور میں ایک آئی ایم ایف پروگرام میں پاکستان شامل ہوا جو تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد نواز لیگ کی سربراہی میں مخلوط حکومت نے جاری رکھا۔

پاکستان کی معیشت میں آئی ایم ایف کا کیا کردار رہا؟

سنہ 1958 سے لے کر 2022 تک آئی ایم ایف کے 22 پروگراموں میں پاکستان کی شمولیت اور اس کے پاکستان کی معیشت کے کردار کے بارے میں ماہر معیشت اور وزارت خزانہ کے ڈیبٹ آفس کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اشفاق حسن نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کا پاکستانی معیشت سے بہت گہرا تعلق رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 1988 کے بعد تو پاکستان میں جو بھی حکومت آئی اس کے آتے ہی یہی نعرہ لگا کہ ’چلو چلو آئی ایم ایف چلو۔‘

انھوں نے کہا اس کی وجہ یہ بھی رہی ہے کہ پاکستان کو ’پل اور پش‘ فیکٹر کے ذریعے آئی ایم ایف پروگرام میں شامل کیا گیا۔ انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کیونکہ آئی ایم ایف امریکہ کے زیر اثر ہے اس لیے وہاں سے ’پل‘ کیا گیا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام میں لاؤ اور یہاں سے ہماری حکومتوں نے ملک کو اس آئی ایم ایف کی جانب ’پش‘ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر جانے والی حکومت نے آنے والی حکومت کے لیے معاشی حالات اتنے خراب چھوڑے کہ ملک کے پاس آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں بچا۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلمپنٹ اکنامکس کے ریسرچ فیلو اور ماہر معیشت عباس موسوی نے اس سلسلے میں بی بی سی نیوز کو بتایا کہ 80 کی دہائی کے بعد آئی ایم ایف پروگرام نے پاکستان میں تین چیزوں پر زور دیا۔ ان میں نجکاری، ڈی ریگولیشن اور فری مارکیٹ کے تصور کو فروغ دینا ہے۔

انھوں نے کہا آئی ایم ایف امریکہ کے زیر اثر ادارہ ہے اس لیے اس کا معاشی کے ساتھ ساتھ سیاسی ایجنڈا بھی ہوتا ہے اور وہ پاکستان میں آئی ایم ایف پروگراموں سے ظاہر ہوتا ہے۔

پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس بار بار جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

پاکستان کے سابق مشیر خزانہ اور ماضی میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرنے والے ڈاکٹر سلمان شاہ نے اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس اس وقت جانے کی ضرورت پیش آئی ہے جب پاکستان کو بیلنس آف پیمنٹ یعنی ادائیگیوں میں عدم توازن کے بحران کا سامنا ہوا۔

انھوں نے کہا جب بھی ملکی درآمدات زیادہ ہوئیں جو اس وقت بھی ہو رہی ہیں اس وقت ملک کو بیلنس آف پیمنٹ کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے اور اس کے لیے آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔

انھوں نے کہا اگر پاکستان آئی ایم ایف کے پاس بار بار گیا تو اس پر آئی ایم ایف کو الزا م نہیں دیا جا سکتا کیونکہ بحران کا سامنا ہمیں تھا اور اس پر ہمیں ان کے پاس جانا پڑا۔

ڈاکٹر سلمان شاہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہم میکرو لیول پر تو اصلاحات کر لیتے ہیں لیکن مائیکرو لیول پر یہ اصلاحات نہیں ہوئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر آئی ایم ایف نے اصلاحات کا کہا تو ہمیں کرنی چاہیے تھی جن میں معیشت کو ایکسپورٹ والی معیشت کے ساتھ صنعتی شعبے کو زیادہ ترقی، زراعت میں ترقی اور ٹیکنالوجی کا استعمال زیادہ کرنا تھا جو ہم نے نہیں کیں۔

ماہر معیشت ڈاکٹر عالیہ ہاشمی نے اس سلسلے میں بتایا کہ پاکستان کے اخراجات زیادہ رہے اور اس لحاظ سے ہم آمدن نہ بڑھا سکے۔

‘غیر ترقیاتی اخراجات بڑھتے گئے جس کی وجہ سے بجٹ خسارہ بڑھا اور اس کے ساتھ تجارتی خسارہ بھی بڑھتا گیا اور اس کے ساتھ ملک پر قرضے کا بوجھ بھی بڑھتا گیا۔’

انھوں نے کہا کہ ملک کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں بچا۔

تاہم عباس موسوی کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہ تھی اور اسے خود ساختی اصلاحات کرنی چاہیے تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 80 کی دہائی سے پہلے پاکستان کے ساتھ پروگراموں کے لیے آئی ایم ایف کی کوئی لمبی چوڑی شرائط نہیں ہوتی تھی تاہم اس کے بعد ساختی اصلاحات اور مالی نظم و ضبط کے نام پر آئی ایم ایف کی جانب سے بہت ساری شرائط عائد کی گئیں۔

ڈاکٹر اشفاق حسن کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ہمیں اگر کبھی ضرورت کے تحت جانا پڑا تو پاکستان کو پروگرام میں جانے کی ضرورت نہ تھی پھر بھی گیا جیسے کہ 2013 میں پاکستان کو پروگرام میں جانے کی ضرورت نہ تھی۔ اس وقت ملک کا بیرونی خسارہ 2.50 ارب ڈالر تھا جسے دوسرے ذرائع جیسے کہ بیرونی سرمایہ کاری سے پورا کیا جا سکتا تھا۔

آئی ایم ایف پروگراموں نے وقتی فائدے کے لیے کیا طویل مدت میں معیشت کو نقصان پہنچایا؟

ڈاکٹر اشفاق حسن نے آئی ایم ایف پروگراموں کو پاکستان کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام اس طرح ڈیزائن کیے گئے کہ اس کی وجہ سے پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوا اور اس کے ساتھ غربت میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ آئی ایم ایف پروگراموں کی وجہ سے ملک میں صنعتی ترقی رک گئی کیونکہ آئی ایم ایف ایکسچینج ریٹ کو کم رکھنے اور شرح سود میں اضافے کا مطالبہ کرتا ہے۔

ان شرائط کی وجہ سے صعنت کے لیے قرضہ مہنگا ہوتا ہے اور صنعتی ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے۔

ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے عام فرد متاثر ہوتا ہے کیونکہ آئی ایم ایف کرنسی کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کرنے کے خلاف ہے۔ انھوں نے کہا جب کرنسی کی قدر گرتی ہے تو اس سے مہنگائی بڑھتی ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ مہنگائی ایک لازمی جزو ہے۔

’جب ملک قرضہ لیتا ہے تو اس کے ساتھ انفلیشن یعنی افراط زر میں اضافے کی وجہ سے ملکی آمدنی پر منفی اثر پڑتا ہے۔‘

ڈاکٹر عالیہ کے مطابق ’آئی ایم ایف مالی نظم و ضبط چاہتا ہے تاہم ان پروگراموں کی وجہ سے طویل مدت میں نقصان ہوا ہے کیونکہ قرضہ بڑھتا گیا کیونکہ جو قرضہ لیا گیا وہ پیداواری عمل میں استعمال نہیں ہوا۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم کو سارا الزام نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ ہمارا قصور بھی ہے کہ ہم اپنی معیشت میں ملکی نظم و ضبط نہیں کر سکے۔

ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا یہ بات غلط ہے کہ آئی ایم ایف مالی ڈسپلن چاہتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر وہ ایسا چاہتا ہے تو کبھی شرح سود میں اضافے کی شرط نہ لگائے۔ ایک فیصد شرح سود بڑھنے سے ملکی قرضے میں 250 ارب روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے اس لیے جب آئی ایم ایف شرح سود میں اضافے کی بات کرتا ہے تو اس سے یہ طویل مدت میں ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔‘

عباس موسوی کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا طویل مدت کا نقصان یہ ہوا کہ ہماری خود مختاری ختم ہو گئی اور ہم معاشی فیصلے کرنے میں خود مختار نہ رہے۔

Newspaper Link

Agreement between Pakistan and IMF: Has the policy of ‘Let’s go IMF’ by each government been beneficial or harmful for Pakistan?
Publication Year : 2022
Author: Abbas Moosvi

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ: ہر حکومت کی جانب سے ’چلو چلو آئی ایم ایف چلو‘ کی پالیسی پاکستان کے لیے مفید رہی یا نقصان دہ؟

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان قرض پروگرام کی بحالی کا سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد آئی ایم ایف پاکستان کو ایک ارب 17 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔

پاکستان کی موجودہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے سنہ 2019 میں طے پانے والے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے اقتدار میں آنے کے بعد سے کوشاں تھی۔

اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف شرائط کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ، بجلی کے نرخ بڑھانے، اضافی ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے اور انڈسٹری پر ٹیکس کی شرح بڑھانے اور کچھ دوسری شرائط پر عمل کیا گیا تھا۔

آئی ایم ایف کی جانب سے اس موجودہ پروگرام کے تحت چھ ارب ڈالر میں سے تین ارب ڈالر پاکستان کو مل چکے ہیں جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اب قرض کی مد میں فراہم کی جانے والی رقم تقریباً چار اعشاریہ دو ارب ڈالر ہو جائے گی جبکہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد کل رقم کو چھ ارب ڈالر سے بڑھا کر سات ارب ڈالر کیا جا سکتا ہے۔

وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے لیے کاوشوں پر وزیراعظم، ساتھی وزرا، سیکریٹریز اور فنانس ڈویژن کا شکریہ ادا کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کو طلب و رسد پر مبنی ایکسچینج ریٹ کا تسلسل برقرار رکھنا ہو گا، اس کے ساتھ مستعد مانیٹری پالیسی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ہو گی۔‘

آئی ایم ایف اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’عالمی مہنگائی کے باعث بڑھتی قیمتوں اور اہم فیصلوں میں تاخیر سے پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر کم ہوئے، زائد طلب کے سبب معیشت اتنی تیز تر ہوئی کہ بیرونی ادائیگیوں میں بڑا خسارہ ہوا۔‘

پاکستان کی آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں میں شمولیت کے بارے میں ملک کے ماہرین معیشت اور ان پروگراموں کے دوران حکومتوں میں رہنے والے افراد نے پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف پروگراموں کے اثرات کے متعلق مختلف رد عمل دیا ہے۔

کچھ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کے مالی نظم و ضبط کے لیے تھے تو دوسروں نے ان پروگراموں سے ملک پر قرض کے بوجھ میں اضافے اور غربت میں اضافے کے بارے میں نشاندہی کی ہے۔

پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں کی تاریخ کیا ہے؟

پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں میں شمولیت کے بارے عالمی ادارے کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ ابھی تک 22 پروگرام ہوئے اور پہلا پروگرام دسمبر 1958 میں طے پایا جس کے تحت پاکستان کو ڈھائی کروڑ ڈالر دینے کا معاہدہ طے پایا۔

اس کے بعد آئی ایم ایف پروگراموں کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا اور آخری اور موجودہ پروگرام کے معاہدے پر جولائی 2019 میں دستخط ہوئے جس کے تحت پاکستان کو چھ ارب ڈالر ملنے تھے جس میں سے تین ارب ڈالر مل چکے ہیں اور باقی تین ارب ڈالر کے لیے موجودہ حکومت کے عالمی ادارے سے مذاکرات جاری ہیں۔

آئی ایم ایف پروگرام کی تاریخ کے مطابق فوجی صدر ایوب خان کے دور میں پاکستان کے آئی ایم ایف سے تین پروگرام ہوئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں بننے والی پہلی حکومت کے دور میں پاکستان کے آئی ایم ایف سے چار پروگرام ہوئے۔

فوجی صدر جنرل ضیاالحق کے دور میں پاکستان نے آئی ایم ایف کے دو پروگراموں میں شرکت کی۔

پی پی پی کی دوسری حکومت میں بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں پاکستان آئی ایم ایف کے دو پروگراموں میں شامل ہوا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پہلی حکومت میں ایک آئی ایم ایف پروگرام میں پاکستان نے شمولیت اختیار کی۔

بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں پاکستان آئی ایم ایف کے تین پروگراموں میں شامل ہوا تو نواز شریف کی دوسری وزارت عظمیٰ میں پاکستان نے دو آئی ایم ایف پروگراموں میں شمولیت اختیار کی۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں دو آئی ایم ایف پروگرام ہوئے، پی پی پی کی 2008 سے 2013 میں بننے والی حکومت میں ایک پروگرام، پاکستان مسلم لیگ نواز کی 2013 سے 2018 میں حکومت میں ایک پروگرام اور پاکستان تحریک انصف کے دور میں ایک آئی ایم ایف پروگرام میں پاکستان شامل ہوا جو تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد نواز لیگ کی سربراہی میں مخلوط حکومت نے جاری رکھا۔

پاکستان کی معیشت میں آئی ایم ایف کا کیا کردار رہا؟

سنہ 1958 سے لے کر 2022 تک آئی ایم ایف کے 22 پروگراموں میں پاکستان کی شمولیت اور اس کے پاکستان کی معیشت کے کردار کے بارے میں ماہر معیشت اور وزارت خزانہ کے ڈیبٹ آفس کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اشفاق حسن نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کا پاکستانی معیشت سے بہت گہرا تعلق رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 1988 کے بعد تو پاکستان میں جو بھی حکومت آئی اس کے آتے ہی یہی نعرہ لگا کہ ’چلو چلو آئی ایم ایف چلو۔‘

انھوں نے کہا اس کی وجہ یہ بھی رہی ہے کہ پاکستان کو ’پل اور پش‘ فیکٹر کے ذریعے آئی ایم ایف پروگرام میں شامل کیا گیا۔ انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کیونکہ آئی ایم ایف امریکہ کے زیر اثر ہے اس لیے وہاں سے ’پل‘ کیا گیا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام میں لاؤ اور یہاں سے ہماری حکومتوں نے ملک کو اس آئی ایم ایف کی جانب ’پش‘ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر جانے والی حکومت نے آنے والی حکومت کے لیے معاشی حالات اتنے خراب چھوڑے کہ ملک کے پاس آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں بچا۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلمپنٹ اکنامکس کے ریسرچ فیلو اور ماہر معیشت عباس موسوی نے اس سلسلے میں بی بی سی نیوز کو بتایا کہ 80 کی دہائی کے بعد آئی ایم ایف پروگرام نے پاکستان میں تین چیزوں پر زور دیا۔ ان میں نجکاری، ڈی ریگولیشن اور فری مارکیٹ کے تصور کو فروغ دینا ہے۔

انھوں نے کہا آئی ایم ایف امریکہ کے زیر اثر ادارہ ہے اس لیے اس کا معاشی کے ساتھ ساتھ سیاسی ایجنڈا بھی ہوتا ہے اور وہ پاکستان میں آئی ایم ایف پروگراموں سے ظاہر ہوتا ہے۔

پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس بار بار جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

پاکستان کے سابق مشیر خزانہ اور ماضی میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرنے والے ڈاکٹر سلمان شاہ نے اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس اس وقت جانے کی ضرورت پیش آئی ہے جب پاکستان کو بیلنس آف پیمنٹ یعنی ادائیگیوں میں عدم توازن کے بحران کا سامنا ہوا۔

انھوں نے کہا جب بھی ملکی درآمدات زیادہ ہوئیں جو اس وقت بھی ہو رہی ہیں اس وقت ملک کو بیلنس آف پیمنٹ کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے اور اس کے لیے آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔

انھوں نے کہا اگر پاکستان آئی ایم ایف کے پاس بار بار گیا تو اس پر آئی ایم ایف کو الزا م نہیں دیا جا سکتا کیونکہ بحران کا سامنا ہمیں تھا اور اس پر ہمیں ان کے پاس جانا پڑا۔

ڈاکٹر سلمان شاہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہم میکرو لیول پر تو اصلاحات کر لیتے ہیں لیکن مائیکرو لیول پر یہ اصلاحات نہیں ہوئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر آئی ایم ایف نے اصلاحات کا کہا تو ہمیں کرنی چاہیے تھی جن میں معیشت کو ایکسپورٹ والی معیشت کے ساتھ صنعتی شعبے کو زیادہ ترقی، زراعت میں ترقی اور ٹیکنالوجی کا استعمال زیادہ کرنا تھا جو ہم نے نہیں کیں۔

ماہر معیشت ڈاکٹر عالیہ ہاشمی نے اس سلسلے میں بتایا کہ پاکستان کے اخراجات زیادہ رہے اور اس لحاظ سے ہم آمدن نہ بڑھا سکے۔

‘غیر ترقیاتی اخراجات بڑھتے گئے جس کی وجہ سے بجٹ خسارہ بڑھا اور اس کے ساتھ تجارتی خسارہ بھی بڑھتا گیا اور اس کے ساتھ ملک پر قرضے کا بوجھ بھی بڑھتا گیا۔’

انھوں نے کہا کہ ملک کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں بچا۔

تاہم عباس موسوی کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہ تھی اور اسے خود ساختی اصلاحات کرنی چاہیے تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 80 کی دہائی سے پہلے پاکستان کے ساتھ پروگراموں کے لیے آئی ایم ایف کی کوئی لمبی چوڑی شرائط نہیں ہوتی تھی تاہم اس کے بعد ساختی اصلاحات اور مالی نظم و ضبط کے نام پر آئی ایم ایف کی جانب سے بہت ساری شرائط عائد کی گئیں۔

ڈاکٹر اشفاق حسن کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ہمیں اگر کبھی ضرورت کے تحت جانا پڑا تو پاکستان کو پروگرام میں جانے کی ضرورت نہ تھی پھر بھی گیا جیسے کہ 2013 میں پاکستان کو پروگرام میں جانے کی ضرورت نہ تھی۔ اس وقت ملک کا بیرونی خسارہ 2.50 ارب ڈالر تھا جسے دوسرے ذرائع جیسے کہ بیرونی سرمایہ کاری سے پورا کیا جا سکتا تھا۔

آئی ایم ایف پروگراموں نے وقتی فائدے کے لیے کیا طویل مدت میں معیشت کو نقصان پہنچایا؟

ڈاکٹر اشفاق حسن نے آئی ایم ایف پروگراموں کو پاکستان کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام اس طرح ڈیزائن کیے گئے کہ اس کی وجہ سے پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوا اور اس کے ساتھ غربت میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ آئی ایم ایف پروگراموں کی وجہ سے ملک میں صنعتی ترقی رک گئی کیونکہ آئی ایم ایف ایکسچینج ریٹ کو کم رکھنے اور شرح سود میں اضافے کا مطالبہ کرتا ہے۔

ان شرائط کی وجہ سے صعنت کے لیے قرضہ مہنگا ہوتا ہے اور صنعتی ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے۔

ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے عام فرد متاثر ہوتا ہے کیونکہ آئی ایم ایف کرنسی کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کرنے کے خلاف ہے۔ انھوں نے کہا جب کرنسی کی قدر گرتی ہے تو اس سے مہنگائی بڑھتی ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ مہنگائی ایک لازمی جزو ہے۔

’جب ملک قرضہ لیتا ہے تو اس کے ساتھ انفلیشن یعنی افراط زر میں اضافے کی وجہ سے ملکی آمدنی پر منفی اثر پڑتا ہے۔‘

ڈاکٹر عالیہ کے مطابق ’آئی ایم ایف مالی نظم و ضبط چاہتا ہے تاہم ان پروگراموں کی وجہ سے طویل مدت میں نقصان ہوا ہے کیونکہ قرضہ بڑھتا گیا کیونکہ جو قرضہ لیا گیا وہ پیداواری عمل میں استعمال نہیں ہوا۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم کو سارا الزام نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ ہمارا قصور بھی ہے کہ ہم اپنی معیشت میں ملکی نظم و ضبط نہیں کر سکے۔

ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا یہ بات غلط ہے کہ آئی ایم ایف مالی ڈسپلن چاہتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر وہ ایسا چاہتا ہے تو کبھی شرح سود میں اضافے کی شرط نہ لگائے۔ ایک فیصد شرح سود بڑھنے سے ملکی قرضے میں 250 ارب روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے اس لیے جب آئی ایم ایف شرح سود میں اضافے کی بات کرتا ہے تو اس سے یہ طویل مدت میں ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔‘

عباس موسوی کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا طویل مدت کا نقصان یہ ہوا کہ ہماری خود مختاری ختم ہو گئی اور ہم معاشی فیصلے کرنے میں خود مختار نہ رہے۔

Newspaper Link