Pakistan Institute of Development Economics

“Sahib is in a meeting”: How useful are government meetings for the people in Pakistan?
Publication Year : 2022

’صاحب میٹنگ میں ہیں‘: پاکستان میں سرکاری میٹنگز عوام کے لیے کتنی مفید؟

پاکستان کے طول و عرض سے کئی کئی گھنٹوں کا سفر کرکے اپنے کاموں کے سلسلے میں آنے والوں کو جب سنجیدہ اور ذمہ دارانہ لہجے میں بتایا جاتا ہے کہ ابھی ملاقات ممکن نہیں کیونکہ صاحب اہم میٹنگ میں ہیں تو ان کے چہروں پر پھیلنے والی مایوسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہتی۔
درحقیقت ملک کی تقدیر کا فیصلہ ان ملاقاتوں میں ہوتا ہے۔ ان ملاقاتوں میں کیا ہوتا ہے؟ کون شرکت کرتا ہے؟ ملاقاتیں کیوں ہوتی ہیں؟ ہمارے حکام ان ملاقاتوں کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں؟
وہ کتنی اچھی طرح سے تیار ہیں؟ ان بحثوں کا معیار کیا ہے؟ کیے گئے فیصلوں پر کتنی سختی اور سنجیدگی سے عمل درآمد ہوتا ہے؟
اس حوالے سے ایک سرکاری تھنک ٹینک نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’پاکستان میں اکثر حکومتی میٹنگز کسی واضح ایجنڈے کے بغیر ہوتی ہیں، اور بعض اوقات شرکا کو اس بات کا کوئی پتا نہیں ہوتا کہ انہیں کیوں بلایا گیا ہے۔‘
اردو نیوز کے پاس دستیاب پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حاضر سروس اور ریٹائرڈ سرکاری افسران کے انٹرویوز میں سامنے آیا ہے کہ ان میٹنگز کی اکثریت ملازمین کو اپنے مقرر کردہ کاموں کو انجام دینے سے روکتی ہے۔
افسران بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سرکاری میٹنگز اکثر ’پیداواری قاتل‘ ہوتی ہیں مگر پھر بھی ناگزیر ہیں۔
پاکستان میں سرکاری میٹنگز کی آٹھ خامیاں
رپورٹ میں بتایا گیا ہے پاکستان میں ہونے والی سرکاری میٹنگز میں آٹھ بنیادی خامیاں ہوتی ہیں۔
پائیڈ کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں سرکاری سطح پر بہت زیادہ میٹنگز ہوتی ہیں۔ زیادہ تر افسران ایک میٹنگ سے دوسری میٹنگ میں بھاگم بھاگ پہنچ رہے ہوتے ہیں اور ان کو فائلوں کو ٹھیک طرح سے دیکھنے کا موقع تک نہیں ملتا۔
زیادہ تر میٹنگز وقت کا ضیاع ہی ہوتی ہیں۔ پورا پورا دن حکام کا میٹنگ میں ہی گزر جاتا ہے اور پالیسی معاملات پر فیصلوں کے لیے جو مواد دیا جاتا ہے اسے سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔
مستقل بحران کی کیفیت اور میٹنگ سے حل
رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان میں تمام حکومتیں کام کرنے کی جلدی میں ہیں۔ ’ایک مستقل بحران کا موڈ ہے۔ یہاں تک کہ عطیہ دہندگان بھی بحران کی شرائط میں بات کرتے ہیں۔‘
 تعلیمی ایمرجنسی، میکرو اکنامک بحران، توانائی کا بحران، پانی کی کمی، غربت کی لکیر سے نیچے لاکھوں افراد وغیرہ۔ نہ صرف ہر کوئی جلدی میں ہے، بلکہ سبھی تمام حل کے علم کا دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں۔ لہٰذا، چیزوں کو انجام دینے کے لیے ہمیں صرف ایک میٹنگ کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق جب بحران کی حالت میں بغیر تیاری کے کام کیا جاتا ہے اور اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں تو ان میں کیے گئے فیصلے متاثر ہوتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے ملک پالیسی کے میدان میں ناکامی کا شکار ہوتا ہے جس کی وجہ سے ترقی متاثر ہوتی ہے مسائل کا پائیدار حل نہیں نکلتا، سرمایہ کاری نہیں ہوتی اور بار بار آئی ایم ایف کے پاس قرض کے لیے جانے کی نوبت آتی ہے۔
سوچا سمجھا عمل درآمد
رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’عمل درآمد‘ اسلام آباد میں سب سے پسندیدہ لفظ ہے۔ تحقیق اور تحقیق کی ضرورت سے خود کو بری الذمہ کرنے کے بعد حکام متواتر اور عجلت میں ہونے والی ملاقاتوں میں جذب ہو جاتے ہیں، اور ’عمل درآمد‘ کرنے کی جنون کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم کسی کو کم ہی معلوم ہوتا ہے کہ عمل درآمد کس پر کرنا ہے؟
اکثر پالیسیاں اہداف اور خواہشات بن جاتی ہیں جس میں بہت کم معلومات ہوتی ہیں کہ کرنا کیسے ہے؟ سال بھر حکام میٹنگز میں عمل درآمد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی کے پاس یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے کہ عجلت میں کی گئی اتنی میٹنگز کے باوجود بحران حل کیوں نہیں ہو رہے۔
کیا یہ طریقہ غلط ہے؟ شاید کم ملاقاتیں، زیادہ سوچ، تحقیق اور مقامی سوچ ہی اس کا حل ہے؟
سیکھنے اور چھان بین کی کسی حقیقی کوشش کے بغیر ترقی کرنے کی عجلت حکومت کی تمام سطحوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ کئی اعلٰی سطح کی میٹنگز جلد بازی میں بلائی جاتی ہیں، طاقت کی راہداریوں میں یہ لطیفہ عام ہے کہ یہ میٹنگز ہی وزیروں اور سیاست دانوں کو مصروف رکھنے کا بہانہ ہیں۔
اجلاسوں میں غیر متعلقہ افراد کی بھرمار
ان میٹنگز میں کچھ لوگوں کو غیر ضروری ہونے کے باوجود صرف اس لیے بلایا جاتا ہے کہ میڈیا میں تصویر اچھی لگے۔
بعض اوقات طاقت ور افراد اپنے جاننے والوں کو خواہ مخواہ میٹنگز میں بٹھا دیتے ہیں چاہے وہ متعلقہ معاملے پر کچھ جانتے ہوں یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر میٹنگز بہت بڑی اور ڈسپلن سے عاری ہوتی ہیں اور ان میں کام کی بات کم ہی ہو پاتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’زیادہ تر معاملات میں بڑی تعداد میں لوگ، جو میٹنگ کے لیے بہت غیر متعلقہ ہیں، بلائے جاتے ہیں، جس سے مکمل بحث ناممکن ہو جاتی ہے۔
متنوع پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ملاقاتیں اس سے بھی زیادہ فضول ہیں، جن میں کوئی دوسرے کی بات نہیں سنتا اور نہ ہی سمجھتا ہے۔
بغیر تیاری کے اجلاس
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر سرکاری میٹنگز کے اختتام پر پہلے سے زیادہ ابہام برقرار رہ جاتا ہے کیونکہ اکثر میٹنگز کے لیے کوئی ایجنڈا جاری نہیں کیا جاتا اور نہ ہی کوئی تحقیقی یا متعلقہ معلومات پر مبنی مواد مہیا کیا جاتا ہے۔  
زیادہ تر میٹنگز میں جس چیز کی توقع کی جا سکتی ہے وہ جلد بازی میں تیار کردہ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن ہے جو اکثر ایک جونیئر اہلکار کی طرف سے تیار کی جاتی ہے۔
یہی پریزنٹینشن پڑھتا کوئی اور ہے۔ چونکہ یہ کوئی تحقیقاتی رپورٹ نہیں ہوتی اسے لیے ایسی میٹنگز میں بہت کم کوئی نتیجہ برآمد ہوتا ہے بلکہ کنفیوژن ہی بڑھتی ہے۔
طویل المیعاد منصوبہ بندی کی کمی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر میٹنگز معمول کے فیصلوں کے لیے ہوتی ہیں۔ حکومت اور کابینہ میں زیادہ تر ملاقاتیں لین دین کی نوعیت کی ہوتی ہیں، جیسے چینی، کھاد وغیرہ جیسی اشیا خریدنا، یا کسی غیر ملکی معاہدے میں شامل ہونا جیسے کوئی بڑا پروجیکٹ یا ایل این جی خریدنے کا معاہدہ یا اسی طرح کا کوئی مسئلہ۔
اس طرح کے اجلاسوں میں ایجنڈا پیش کرنے والے منظوری لینے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہر سال کھاد کی خریداری صرف قلت کے دنوں میں میز پر لائی جاتی ہے اور اس میں بھی ملک میں دستیاب سٹاک اور اس کی قیمت کے اعداد و شمار بھی نہیں ہوتے۔
اس بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی جاتی کہ اس طرح کی خریداریوں کو سال بھر بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ہموار کیوں نہیں کیا جا سکتا۔
بدقسمتی سے، اس طرح کی سٹریٹیجک سوچ اور مسائل کے طویل مدتی حل کے لیے باخبر فیصلے لینے کا کوئی رواج نہیں ہے۔
بجٹ پر اثرات کا سوچا ہی نہیں جاتا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری میٹنگز میں جلد بازی میں تجویز کردہ لین دین جیسے کہ کوئی خریداری، سبسڈی، یا تازہ پروجیکٹس سوچے بغیر ہی منظور کر دیے جاتے ہیں کہ اس سے بجٹ پر کیا اثر پڑے گا۔
پائیڈ کی ریسرچ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ آپ اربوں روپے کی خریداری یا سبسڈی میں اضافے کو اس بات کی فکر کیے بغیر کیسے منظور کر سکتے ہیں کہ اس سے بجٹ پر کیا اثر پڑے گا؟
مناسب عمل، تفتیش اور مشاورت کا فقدان
بحرانی ذہنیت اور ڈیلیور کرنے کی جلدی کا مطلب ہے کہ طے شدہ طریقہ کار کا لحاظ ہی نہیں کیا جاتا۔ غیر تیار شدہ مسودات کو جلد بازی میں کابینہ اور تمام میٹنگز میں پیش کیا جاتا ہے جس میں کہ لازمی جمع کرانے کے وقفوں، بین المحکمہ جاتی مشاورت اور تفتیشی تقاضوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔
اس کے بجائے عجلت میں تیار کردہ خلاصے اور پاور پوائنٹ سے گزارہ چلایا جاتا ہے۔ تاہم اس عمل کے دوران اربوں روپے کے حوالے سے فیصلے ہو جاتے اور پھر بعد میں اسی وجہ سے انکوائری، قانونی چارہ جوئی اور عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
میٹنگز بہتر بنانے کا حل کیا ہے؟
پائیڈ کی رپورٹ میں سرکاری میٹنگز کو بہتر اور فائدہ مند بنانے کے لیے تجاویز دی گئی ہیں۔
ان کے مطابق میٹنگ محض کسی کی خواہش پر نہیں ہونی چاہیے۔ کابینہ اور ای سی سی جیسی میٹنگز صرف پہلے سے طے شدہ اوقات پر ہونی چاہییں اور تیاری کے وقت کے لیے مناسب نوٹس ضروری ہے۔ ایسی میٹنگز بھی کثرت سے نہیں ہونی چاہییں۔
اس کے علاوہ میٹنگ میں ایک کورم کا تعین ہونا چاہیے۔ اگر ماہرین کی ضرورت ہو تو ایک طریقہ کار ہونا چاہیے۔

Newspaper Link

“Sahib is in a meeting”: How useful are government meetings for the people in Pakistan?
Publication Year : 2022

’صاحب میٹنگ میں ہیں‘: پاکستان میں سرکاری میٹنگز عوام کے لیے کتنی مفید؟

پاکستان کے طول و عرض سے کئی کئی گھنٹوں کا سفر کرکے اپنے کاموں کے سلسلے میں آنے والوں کو جب سنجیدہ اور ذمہ دارانہ لہجے میں بتایا جاتا ہے کہ ابھی ملاقات ممکن نہیں کیونکہ صاحب اہم میٹنگ میں ہیں تو ان کے چہروں پر پھیلنے والی مایوسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہتی۔
درحقیقت ملک کی تقدیر کا فیصلہ ان ملاقاتوں میں ہوتا ہے۔ ان ملاقاتوں میں کیا ہوتا ہے؟ کون شرکت کرتا ہے؟ ملاقاتیں کیوں ہوتی ہیں؟ ہمارے حکام ان ملاقاتوں کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں؟
وہ کتنی اچھی طرح سے تیار ہیں؟ ان بحثوں کا معیار کیا ہے؟ کیے گئے فیصلوں پر کتنی سختی اور سنجیدگی سے عمل درآمد ہوتا ہے؟
اس حوالے سے ایک سرکاری تھنک ٹینک نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’پاکستان میں اکثر حکومتی میٹنگز کسی واضح ایجنڈے کے بغیر ہوتی ہیں، اور بعض اوقات شرکا کو اس بات کا کوئی پتا نہیں ہوتا کہ انہیں کیوں بلایا گیا ہے۔‘
اردو نیوز کے پاس دستیاب پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حاضر سروس اور ریٹائرڈ سرکاری افسران کے انٹرویوز میں سامنے آیا ہے کہ ان میٹنگز کی اکثریت ملازمین کو اپنے مقرر کردہ کاموں کو انجام دینے سے روکتی ہے۔
افسران بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سرکاری میٹنگز اکثر ’پیداواری قاتل‘ ہوتی ہیں مگر پھر بھی ناگزیر ہیں۔
پاکستان میں سرکاری میٹنگز کی آٹھ خامیاں
رپورٹ میں بتایا گیا ہے پاکستان میں ہونے والی سرکاری میٹنگز میں آٹھ بنیادی خامیاں ہوتی ہیں۔
پائیڈ کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں سرکاری سطح پر بہت زیادہ میٹنگز ہوتی ہیں۔ زیادہ تر افسران ایک میٹنگ سے دوسری میٹنگ میں بھاگم بھاگ پہنچ رہے ہوتے ہیں اور ان کو فائلوں کو ٹھیک طرح سے دیکھنے کا موقع تک نہیں ملتا۔
زیادہ تر میٹنگز وقت کا ضیاع ہی ہوتی ہیں۔ پورا پورا دن حکام کا میٹنگ میں ہی گزر جاتا ہے اور پالیسی معاملات پر فیصلوں کے لیے جو مواد دیا جاتا ہے اسے سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔
مستقل بحران کی کیفیت اور میٹنگ سے حل
رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان میں تمام حکومتیں کام کرنے کی جلدی میں ہیں۔ ’ایک مستقل بحران کا موڈ ہے۔ یہاں تک کہ عطیہ دہندگان بھی بحران کی شرائط میں بات کرتے ہیں۔‘
 تعلیمی ایمرجنسی، میکرو اکنامک بحران، توانائی کا بحران، پانی کی کمی، غربت کی لکیر سے نیچے لاکھوں افراد وغیرہ۔ نہ صرف ہر کوئی جلدی میں ہے، بلکہ سبھی تمام حل کے علم کا دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں۔ لہٰذا، چیزوں کو انجام دینے کے لیے ہمیں صرف ایک میٹنگ کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق جب بحران کی حالت میں بغیر تیاری کے کام کیا جاتا ہے اور اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں تو ان میں کیے گئے فیصلے متاثر ہوتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے ملک پالیسی کے میدان میں ناکامی کا شکار ہوتا ہے جس کی وجہ سے ترقی متاثر ہوتی ہے مسائل کا پائیدار حل نہیں نکلتا، سرمایہ کاری نہیں ہوتی اور بار بار آئی ایم ایف کے پاس قرض کے لیے جانے کی نوبت آتی ہے۔
سوچا سمجھا عمل درآمد
رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’عمل درآمد‘ اسلام آباد میں سب سے پسندیدہ لفظ ہے۔ تحقیق اور تحقیق کی ضرورت سے خود کو بری الذمہ کرنے کے بعد حکام متواتر اور عجلت میں ہونے والی ملاقاتوں میں جذب ہو جاتے ہیں، اور ’عمل درآمد‘ کرنے کی جنون کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم کسی کو کم ہی معلوم ہوتا ہے کہ عمل درآمد کس پر کرنا ہے؟
اکثر پالیسیاں اہداف اور خواہشات بن جاتی ہیں جس میں بہت کم معلومات ہوتی ہیں کہ کرنا کیسے ہے؟ سال بھر حکام میٹنگز میں عمل درآمد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی کے پاس یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے کہ عجلت میں کی گئی اتنی میٹنگز کے باوجود بحران حل کیوں نہیں ہو رہے۔
کیا یہ طریقہ غلط ہے؟ شاید کم ملاقاتیں، زیادہ سوچ، تحقیق اور مقامی سوچ ہی اس کا حل ہے؟
سیکھنے اور چھان بین کی کسی حقیقی کوشش کے بغیر ترقی کرنے کی عجلت حکومت کی تمام سطحوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ کئی اعلٰی سطح کی میٹنگز جلد بازی میں بلائی جاتی ہیں، طاقت کی راہداریوں میں یہ لطیفہ عام ہے کہ یہ میٹنگز ہی وزیروں اور سیاست دانوں کو مصروف رکھنے کا بہانہ ہیں۔
اجلاسوں میں غیر متعلقہ افراد کی بھرمار
ان میٹنگز میں کچھ لوگوں کو غیر ضروری ہونے کے باوجود صرف اس لیے بلایا جاتا ہے کہ میڈیا میں تصویر اچھی لگے۔
بعض اوقات طاقت ور افراد اپنے جاننے والوں کو خواہ مخواہ میٹنگز میں بٹھا دیتے ہیں چاہے وہ متعلقہ معاملے پر کچھ جانتے ہوں یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر میٹنگز بہت بڑی اور ڈسپلن سے عاری ہوتی ہیں اور ان میں کام کی بات کم ہی ہو پاتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’زیادہ تر معاملات میں بڑی تعداد میں لوگ، جو میٹنگ کے لیے بہت غیر متعلقہ ہیں، بلائے جاتے ہیں، جس سے مکمل بحث ناممکن ہو جاتی ہے۔
متنوع پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ملاقاتیں اس سے بھی زیادہ فضول ہیں، جن میں کوئی دوسرے کی بات نہیں سنتا اور نہ ہی سمجھتا ہے۔
بغیر تیاری کے اجلاس
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر سرکاری میٹنگز کے اختتام پر پہلے سے زیادہ ابہام برقرار رہ جاتا ہے کیونکہ اکثر میٹنگز کے لیے کوئی ایجنڈا جاری نہیں کیا جاتا اور نہ ہی کوئی تحقیقی یا متعلقہ معلومات پر مبنی مواد مہیا کیا جاتا ہے۔  
زیادہ تر میٹنگز میں جس چیز کی توقع کی جا سکتی ہے وہ جلد بازی میں تیار کردہ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن ہے جو اکثر ایک جونیئر اہلکار کی طرف سے تیار کی جاتی ہے۔
یہی پریزنٹینشن پڑھتا کوئی اور ہے۔ چونکہ یہ کوئی تحقیقاتی رپورٹ نہیں ہوتی اسے لیے ایسی میٹنگز میں بہت کم کوئی نتیجہ برآمد ہوتا ہے بلکہ کنفیوژن ہی بڑھتی ہے۔
طویل المیعاد منصوبہ بندی کی کمی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر میٹنگز معمول کے فیصلوں کے لیے ہوتی ہیں۔ حکومت اور کابینہ میں زیادہ تر ملاقاتیں لین دین کی نوعیت کی ہوتی ہیں، جیسے چینی، کھاد وغیرہ جیسی اشیا خریدنا، یا کسی غیر ملکی معاہدے میں شامل ہونا جیسے کوئی بڑا پروجیکٹ یا ایل این جی خریدنے کا معاہدہ یا اسی طرح کا کوئی مسئلہ۔
اس طرح کے اجلاسوں میں ایجنڈا پیش کرنے والے منظوری لینے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہر سال کھاد کی خریداری صرف قلت کے دنوں میں میز پر لائی جاتی ہے اور اس میں بھی ملک میں دستیاب سٹاک اور اس کی قیمت کے اعداد و شمار بھی نہیں ہوتے۔
اس بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی جاتی کہ اس طرح کی خریداریوں کو سال بھر بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ہموار کیوں نہیں کیا جا سکتا۔
بدقسمتی سے، اس طرح کی سٹریٹیجک سوچ اور مسائل کے طویل مدتی حل کے لیے باخبر فیصلے لینے کا کوئی رواج نہیں ہے۔
بجٹ پر اثرات کا سوچا ہی نہیں جاتا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری میٹنگز میں جلد بازی میں تجویز کردہ لین دین جیسے کہ کوئی خریداری، سبسڈی، یا تازہ پروجیکٹس سوچے بغیر ہی منظور کر دیے جاتے ہیں کہ اس سے بجٹ پر کیا اثر پڑے گا۔
پائیڈ کی ریسرچ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ آپ اربوں روپے کی خریداری یا سبسڈی میں اضافے کو اس بات کی فکر کیے بغیر کیسے منظور کر سکتے ہیں کہ اس سے بجٹ پر کیا اثر پڑے گا؟
مناسب عمل، تفتیش اور مشاورت کا فقدان
بحرانی ذہنیت اور ڈیلیور کرنے کی جلدی کا مطلب ہے کہ طے شدہ طریقہ کار کا لحاظ ہی نہیں کیا جاتا۔ غیر تیار شدہ مسودات کو جلد بازی میں کابینہ اور تمام میٹنگز میں پیش کیا جاتا ہے جس میں کہ لازمی جمع کرانے کے وقفوں، بین المحکمہ جاتی مشاورت اور تفتیشی تقاضوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔
اس کے بجائے عجلت میں تیار کردہ خلاصے اور پاور پوائنٹ سے گزارہ چلایا جاتا ہے۔ تاہم اس عمل کے دوران اربوں روپے کے حوالے سے فیصلے ہو جاتے اور پھر بعد میں اسی وجہ سے انکوائری، قانونی چارہ جوئی اور عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
میٹنگز بہتر بنانے کا حل کیا ہے؟
پائیڈ کی رپورٹ میں سرکاری میٹنگز کو بہتر اور فائدہ مند بنانے کے لیے تجاویز دی گئی ہیں۔
ان کے مطابق میٹنگ محض کسی کی خواہش پر نہیں ہونی چاہیے۔ کابینہ اور ای سی سی جیسی میٹنگز صرف پہلے سے طے شدہ اوقات پر ہونی چاہییں اور تیاری کے وقت کے لیے مناسب نوٹس ضروری ہے۔ ایسی میٹنگز بھی کثرت سے نہیں ہونی چاہییں۔
اس کے علاوہ میٹنگ میں ایک کورم کا تعین ہونا چاہیے۔ اگر ماہرین کی ضرورت ہو تو ایک طریقہ کار ہونا چاہیے۔

Newspaper Link